Urdu Story Muhabbat Ya Adat | Urdu Stories

 Urdu Story Muhabbat Ya Adat 


Urdu Story Muhabbat Ya Adat | Urdu Stories
Urdu Story Muhabbat Ya Adat | Urdu Stories

رات کسی پہر میری آنکھ کھلی تو عجیب سا احساس ہوا۔ اچانک سانس رکی تھی یا دل کی دھڑکن جیسے کسی نے بہت بھاری پتھر میرے سینے پرلا رکھا ہو مجھے تو ابھی دل کا کوئی عارضہ نہیں تو پھر ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے شاید بہت دیر سے بائیں جانب کروٹ لیے سوتا رہا ہوں اب مجھے کروٹ بدلنی چاہیے ۔ ویسے بھی کروٹ نہ بدلنے کی وجہ بھی تو نہیں رہی۔ ایک بار پھر میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں؟ میں نے خود کو جھڑ کا، نہیں رہی ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسے کیسے جاسکتی ہے، مانا میں نے کبھی اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائیں مگر کیا ہم مشرقی لوگ شادی کرتے وقت غیرارادی طور پر اپنے دلوں میں ایسے ہی عہد و پیمان نہیں کر لیتے کسی کے سمجھائے بغیر ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانے پہنچانے بغیر ہی ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایسا میں نہیں، میری مرحوم اماں بی کہا کرتی تھیں جب شادی سے ایک رات پہلے میں نے ان کی گود میں منہ چھپا کر ڈرتے ڈرتے کہا تھا کہ۔ اماں بی بھلا میں کسی اجنبی عورت سے محبت کیسے کر سکتا ہوں جس کو بس ایک نظر دیکھا ہو جس کی آواز تک کی پہچان نہ ہوئی ہو، جس کی آہٹ کبھی محسوس نہ کی ہو ، جو خوشبو کون سی لگائی ہے وہ تک نہ معلوم ہو تو بھلا ایسے کسی کو کیسے دل دیا جاتا ہے؟ اور اماں بی نے ہمیشہ کی طرح کس قدر پیارسے سمجھایا تھا۔ محبت تم نہیں . وہ تم سے کرے گی اور تمہیں بس اس کی محبت کی عادت ہو جائے گی بیٹا ! عورت تو ہے ہی محبت ، سرتا پیر محبت مگر مرد، مرد زیادہ ترعادی ہوتا ہے۔ عورت کو معلوم ہے مرد کو عادی بنانا ہے۔ عقل مند عورت کبھی مرد کو محبت کرنے پر مجبور نہیں کرتی بس اپنی کا محبت کا عادی بنا دیتی ہے اور ہے اور مجھے اپنی بہو پر پر پورا پورا بھروسا ہے- تم زیادہ فکر نہ کرو، ایک دن تم آنکھ کھلو گے اور تمہیں لگے گا کہ بس آج سے تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تمہیں اس کے کھو جانے سے ڈر لگنے لگے گا۔ تم اس کی چھوٹی چھوٹی نادانیوں پر ہنسو گے۔ مذاق اڑاؤ گے اس کی بیوقوفیوں پر طنز بھی کرو گے مگر اس سے دور ہو جانے کا خیال ہی تمہیں بے چین کر دے گا۔ اماں بی کی باتوں سے مجھ میں چھپا ضدی مرد ابھر کر سامنے آگیا۔

ہونہہ! میں ایسا ویسا کوئی معمولی بندہ نہیں کہ ذرا سی عورت کی محبت کے جال میں پھنس جاؤں۔ اماں بی تو مجھے ابھی تک چھوٹا سا بچہ ہی سمجھتی ہیں۔ میں چھوٹا بچہ نہیں تھا پھر بھی کتنی دیر تک اماں بی کی گود میں منہ چھپائے پڑا رہا۔ اماں بی غلط کہہ رہی ہیں کہ مرد محبت نہیں کرتا صرف عادی ہوتا ہے۔ مجھے کسی قدر محبت ہے اماں بی سے۔ ہمیشہ سے تھی گو میں گھر میں تین بھائیوں اور ایک چھوٹی بہن کا سب سے بڑا بھائی ہوں اور ابا میاں کے گزر جانے کے بعد میں نے ہی کم عمری سے ابا میاں کی جگہ سنبھال لی اور گھر کا کاروبار اپنے کندھوں پر لاد لیا تو کیا یہ سب صرف عادی ہونے پر کیا ؟ نہیں میں محبت کرتا ہوں بھائیوں سے ننھی سی بہن سے اور سب سے بڑھ کر اپنی اماں بی سے، ایسا الزام کیسے لگا سکتی ہیں اماں بی ہم مردوں پر کہ مرد محبت نہیں کرتا ؟ میں چاہتا تو اماں بی کو باتوں میں گھیر سکتا تھا مگر میں اماں بی سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ کتنے دنوں بعد میری شادی کے سلسلے میں ہونے والے ہنگاموں میں دن رات مصروف ہو کر بھی بے حد مسرور تھیں۔ شاید ابا میاں کے بعد وہ پہلی بار اس قدر ہشاش بشاش تھیں تو اب میں ان کا مزاج برہم کیوں کرتا۔ میں کوئی گندا بچہ تھوڑی ہوں ۔ میں بچوں کی طرح کئی دوسری باتوں میں مگن اماں بی کی محبت و شفقت کا مزہ لیتا رہا تھا مگر دل ہی دل میں کہیں میرا خود سرمرد مکمل طور پر جاگ چکا تھا۔

خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا گھر کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا مگر پھر مطمئن ہو گیا۔ دونوں بچے تو شام سے ہی اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے تھے۔ چلو اچھا ہوا ورنہ میں بھلا ان کو کیسے سنبھالتا۔ یہ کام تو وہی کر سکتی ہے۔ مجھے تو ویسے بھی بچوں کو صاف ستھرا، مطمئن اور سکون سے بیٹھا دیکھنے کی عادت ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بغیر بچوں کے ساتھ وقت گزاروں، کسی نامناسب بات پر ان کو جھڑکوں وہ ہوتی ہے تو میرے سامنے پتا نہیں کیسے دونوں بہت ہی شرارتی بچے مکمل طور پر ادب کے دائرے میں رہتے ہیں، مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ باپ کی ہزار ہا شفقت و محبت کے باوجود کس طرح ماں بچوں کے دلوں میں باپ کے لیے بے انتہا ادب ڈال دیتی ہے جیسے کوئی مالی بیج کو پانی دیتے دیتے تناور درخت بنا لیتا ہے تو اچھا ہی ہے سو بچے اپنی پھوپھو کے ساتھ چلے گئے۔ یہ ہدایات بھی اسی نے دی ہوں گی۔ وہ نہ ہو کر بھی موجود ہے۔

میں نے سوچتے سوچتے کروٹ سوچنے کروٹ بدلی اور بستر کے دوسری جانب سپاٹ خالی جگہ نے مجھے مکمل طور پر بیدار کر دیا- پتا نہیں کیوں شادی کے گزرے آٹھ سالوں میں تقریبا ہر رات میں نے اس کی جانب کروٹ لے کر سونے میں قباحت محسوس کی۔ مجھے کس بات کا خوف رہا تھا، شاید اس بات کا کہ کہیں وہ جاگتی نہ ہو جیسا کہ وہ اکثر ہی جاگی رہتی تھی اور پھر میری اس کے چہرے پر نظر پڑی، ہم دونوں کی آنکھیں ملیں ، کمرے کے اندھیرے میں بھی اس کے چہرے کو دیکھنے سے اجتناب کرتا تھا اور آج رات جبکہ وہ میرے برابر میں نہیں تھی تو پورے بستر پر پھیل کر سونے کے بجائے اس کے حصے کی صاف ستھری چادر کی سلوٹ خراب ہونے کے ڈر سے کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ میں ایسا کیوں کرتا رہا تھا ۔ پتا نہیں میں یہ آج کسی قسم کی باتوں میں الجھتا چلا جا رہا ہوں۔ میں نے ایک بار پھر خود کو جھڑکا اور باورچی خانے جا کر پانی پینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ باورچی خانے میں ہر طرف شام سے گھر میں ہر طرح کے آنے جانے والوں کے کھانے پینے کے آثار نمایاں تھے۔ اچانک میں مسکرا گیا ایک یا ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہی میرا سات سالہ بڑا بیٹا اسکول جانے کے لیے تیار اپنی وین کا انتظار کرنے کے دوران اپنی ماں سے بیسن یا سینک کا اردو میں ترجمہ پوچھ رہا تھا، اتفاق سے اس وقت میں بھی باورچی خانے کے ایک کونے پر رکھی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا سامنے رکھی میز پر اخبار پھیلائے ناشتے کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹے کی بات پر میں متوجہ ہوا ہی تھا کہ اس نے اپنی دھیمی اور نرم آواز میں بیٹے کو ترجمہ بتا دیا۔ واش بیسن یا سینک کو اردو میں سلفچی کہتے ہیں۔

جب یہ لفظ ، سلفچی ، مجھ جیسے اردو کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کیے آدمی کی سمجھ میں نہ آسکا تو بیٹا تو بہت چھوٹا تھا۔ اور آج کل کے بچوں کی طرح اردو بول چال سے دور بھی۔ کیا سیلفی چی؟ بیٹے نے حیران ہو کر ماں کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے پوچھا۔ وہ توے سے پراٹھا اتار کر پلیٹ میں رکھے میری ہی طرف آ رہی تھی۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں تلے ہوئے انڈے کی پلیٹ تھی۔ بیٹے کی بات پر نجانے کیوں وہ تیزی سے چلتے ہوئے ٹھٹک کر رکی، ہم دونوں کی نظریں ملیں اور بے اختیار ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔ اور اس ایک بات پر میں پورا دن خود سے کس قدر ناراض رہا تھا۔ بھلا مجھے ایسے ذراسی بات پر اس کے بنسنے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہی کیا تھی، ویسے بھی بیٹے کی طرح تو مجھے بھی سلفچی کچھ خاص سمجھ میں نہ آسکا تھا تو پھر میں یوں ہی اپنے اخبار کی طرف متوجہ رہتا۔

ایک بار پھر سر جھٹک کر میں نے پلٹ کر سلفچی کو دیکھا۔ اس میں گندے برتن کا ڈھیر تھے۔ آج شام سے میری چھوٹی بہن نے ہی گھر سنبھالا ہوا تھا۔ بچے اسکول سے واپس آئے توان کو پرسکون رکھنا، گھر میں آنے والوں کو چائے پانی دینا دلانا، یوں تو میرے بھائیوں کی بیویاں بھی موجود تھیں مگر خود بخود جیسے پورے گھر کی باگ دوڑ میری چھوٹی بہن نے سنبھال لی تھی۔ میں جانتا تھا ایک میں ہی کیا سب ہی پریشان تھے پھر بھی میں یہی امید کر رہا تھا کہ چھوٹی بہن باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ دل تو چاہا رات کہ اس پہر چھوٹی بہن کو اور بھائیوں کی بیویوں کو فون لگا کر کھری کھری سنا ڈالوں … کیوں بھئی کبھی دیکھا میرے گھر کا باورچی خانہ اس قدر پھیلا ہوا بے ہنگم اور گندا اور یہ پانی کی ٹھنڈی بوتلیں نکالی تھیں تو بھرکر واپس بھی نہ رکھی گئیں۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ پیچھے بھی لوگ آسکتے ہیں تو کیا اب آنے والوں کو اس گرمی میں ٹھنڈا پانی بھی نہ ملے یعنی میرے گھر میں کوئی آئے اور اس طرح پیاسا رہے- گندے برتن دھونے تو دور کی بات سمیٹ کر بھی نہیں رکھے گئے جس نے جو چاہا فریج سے نکال کر کھایا پیا اور بقایا میز پرھی چھوڑ کر چلتا بن،ا کیا جا سکتا ہے تم سب کی عادت ہی بگڑی ہوئی ہے۔ میرے گھر میں آ کر تو تم سب کو یاد ہی نہیں رہتا کہ انسان کے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے کے کچھ آداب ہوتے ہیں- یہ بار بار میرا گھر ، میرا گھر کیا لگا رکھا ہے کسی نے چپکے سے میرے کان میں کہا یہ جو تم اس قدر ترائے ہوئے سب کو میرا گھر میرا گھر کہہ کر شرمسار کرنے کا سوچ رہے ہو تو کبھی سوچا کہ اگر وہ اس گھر میں ہردم چلی پھرتی محنت مشقت کرتی کونے کونے کی دیکھ بھال نہ کرتی ہوتی تو کیا فقط ان چار دیواروں کو تم میرا گھر کہہ سکتے تھے؟ سچ بات ہے دنیا کا دستور یہی ہے محنت کسی کی اور شاباش کوئی اور سمیٹتا ہے۔ چھوٹی بہن یقینا بھول گئی تھی۔ شاید اسے یادہی نہیں رہا ہو کہ آج کی رات میں نے خود کو اس کی کمی کو محسوس کرتے سوچ کر جلدی سے اپنی توجہ باورچی خانے کی حالت زار پر مرکوز کی۔ ٹھنڈے پانی کے لیے فریج کھولا تو پانی کی ایک بھی بوتل نہ ملی بلکہ شادی کے بعد سے آج پہلی بار مجھے اپنے گھر کا فریج کھول کر بھی اجنبیت کا احساس ہوا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ میں نے فریج کھولا ہو اور گھر پر بنے انواع و اقسام کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا ہوا نہ ہو۔

بجے تو ہمارے دو ہی تھے میں بھی دن بھر آفس میں رہتا مگر ہمارے گھر مہمان بہت آتے تھے اور مہانوں کا اکرام کرنا وہ خوب جانتی تھی اور اچانک آنے والی رحمت کو یہ بھی اپنی مہمان داری سے مایوس ہونے نہیں دیتی تھی۔ ہوتے ہیں دی گی۔ برکت خود ہی عود آتی۔ اس نے کبھی گھر کے خرچے کو بڑھانے کا نہیں کہا۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی کہ کسی طرح وہ میری محدود آمدنی میں بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے اخراجات بھی سنبھال رہی تھی مگر میں اپنی حیرت اپنے تک ہی محدود رکھتا۔ اس سے بلاوجہ بات چھیڑنا اور بات سے بات نکال کر باتیں کرنا مجھے کبھی نہیں بھایا۔ اس نے بھی مجھے بھی تنگ نہیں کیا اس کی مصروفیات ہی اس قدر ہوتی تھیں۔ گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا ، استری کرنا بچوں کو پڑھانا ، مہمانوں کے آنے پر ان کی خاطر داری، وہ ہر وقت ایک مشین سی بنی پورے گھر میں دوڑتی پھرتی تھی۔ ہمارا پرانی طرز کا ایک سو بیس گز پر بنا آبائی گھر کا کوئی کونا ایسا نہ تھا جہاں اس کی موجودگی محسوس نہ کی جا سکتی ہو- وہ ہر جگہ ہر وقت ہر طرف اپنے سلیقے اور محنت کی نشانی چھوڑ جاتی تھی اور میں چاہ کر بھی اس سے ناراضی کا کوئی بہانہ ڈھونڈ نہیں پاتا تھا۔ میرے بھائی بہن ان کے بچے میرے بوڑھے جوان رشته دار دوست احباب ان کی بیویاں ، بیٹیاں مائیں سب کے سب اس کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ اس کی خوش مزاجی اور مہمان نوازی کے چرچے تھے ہمیں بہت ذوق و شوق سے محفلوں میں بلایا جاتا تھا غم و خوشی میں ہمیں شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا اور میں جانتا تھا کہ یہ سب اس کی ہی خوش اخلاقی کی بدولت تھا مگر مانتا کہاں تھا۔

پانی لینے کے لیے گلاس اٹھایا ہی تھا کہ طبیعت مکدر ہوگئی۔ کسی نے تیل لگے ہاتھوں سے گلاس پکڑا تھا اور پانی پی کر ویسے ہی الٹ کر گلاس کے اسٹینڈ پر رکھ کر چلتا بنا تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ میں کسی طرح ذرا ذرا سی تفصیل پر بھنا رہا تھا حالانکہ کبھی اسے اس طرح ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کو ڈانٹتے یا سمجھاتے سنتا تو دل میں اس کی صفائی پسندی پر ناراض ہو جاتا۔ میں نے دوسرا نسبتاً صاف گلاس نکال کر سلفچی کے نلکے سے پانی لے کر پیا اور ایک عجیب سی اداسی محسوس کرتا پورے گھر میں اکیلا دیوانوں کی طرح گھوم پھر کراپنے کمرے میں واپس آ گیا۔ میں جذباتی انسان کبھی نہیں رہا ۔ بس اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے کھولنا پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ میں نے بھی کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا دل دکھانے کی بات نہیں کی پھر بھی اکثر لوگ مجھے مغرور سمجھتے تھے اور مجھ سے بات کرنے سے کتراتے تھے جب سے وہ میری زندگی میں آئی تھی۔ سب نے مجھ سب سے بات کرنے کا ذریعہ اسے بنا لیا تھا اور کیونکہ وہ نہیں تھی، لہذا گھر پر آئے ہوئے میں سے کسی نے بھی جاتے ہوئے مجھے بتایا تک نہیں تھا، شاید وہ سب مجھے کمرے میں سوتا ہوا سمجھے ہوں اور نیند خراب کرنے کے ڈر سے ہی مجھے بتایا نہ ہو۔ چھوٹی بہن کا بچوں کو لے جانے کا بھی اپنے موبائل پر چھوٹی بہن کے مسیح سے پتا چلا تھا تو اب کیا کروں ؟ کاش چھوٹی بہن جاتے جاتے دو چار منٹ مجھ سے بات کر لیتی۔ مجھے کسی کے سامنے تو اقرار کرنا ہی ہے۔ کسی کو تو بتانا ہی ہے کہ میں اس کے بغیر بہت بہت اداس ہوں اور اس کے بغیر بالکل ادھورا سا لگ رہا ہوں اور میں اس کے بغیر بالکل نہیں رہ سکتا۔

گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی یعنی میں تقریباً پوری رات ہی اسے سوچتے اسے یاد کرتے گزار چکا ہوں اور اس بات سے ہی ڈر رہا ہوں کہ کہیں وہ ہمیشہ کے لیے ہی نہ کھو جائے۔ دل پھر مچلا ۔ میں نے کچھ سوچے سمجھے بنا فون اٹھایا اور اسے میسج کیا۔ کیسی طبیعت ہے؟ حالانکہ اتنا تو مجھے معلوم ہی تھا کہ ایمرجنسی میں فون لے جانے کی اجازت نہیں لہذا اندر فون بند ہی رکھنا پڑتا ہے۔ چند سیکنڈ میں ہی جواب آ گیا۔ نماز کے لیے اٹھے ہیں؟ خلاف توقع میسج ملنے پر خوشی اپنی جگہ مگر اس کے معمول کے میسج پر میں اور بگڑ گیا- کیا کہا ڈاکٹر نے؟ میں نے بھی جیسے اس کے طریقے پر ہی چلنا چاہا۔ صبح سات بجے تک رپورٹس آئیں گی تو ہی بتائیں ہیں گے۔ آپ کچھ کھالیں پلیز- کھانے کا تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے اسے میری ہی پرواہ ہو۔ خود وہاں ایمر جنسی میں آرام سے ہے اور میں یہاں اکیلا اور بھوکا بھی، اس کے جانے سے پہلے کھانا لگانے کا ہی کہہ دیتا۔ میں بھی تو اس قدر جذباتی ہو گیا فضول میں۔ مجھے شدید غصہ آنے لگا اور وہ بھی توصیف پر جو میرے بچپن کا دوست تھا اور میرے گھر اس کا آنا جانا گھر کے ایک فرد کی طرح تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ اس طرح مجھے استعمال کرے گا۔ آج تک مجھے بے بسی کا ایسا احساس نہ ہوا تھا جیسا اب ہو رہا تھا۔ اب کس طرح کیسے اظہار کروں وہ پتا نہیں کب تک رہے اور یہاں تو ایک رات گزارنی مشکل ہوگئی ہے۔ تو کیا کروں اپنے آپ کو کمزور دکھا دوں ۔ یہ بتا دوں کہ میں تو بس اپنی بیوی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ کس قدر مذاق اڑائیں گے سب- جیسے ہی صبح کی سفیدی نمودار ہوئی میں تیار ہو گیا۔ اس کے جاتے ہوئے میں نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ جاتی ہے تو جائے ۔ میرے معمول میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ میں نے آفس سے چھٹی تک نہیں کی تھی اور جب وہ جارہی تھی تو میری طرف اس نے کئی بار دیکھا تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ صبح میری اس سے ہونے والی ہلکی سی جھڑپ کے نتیجے میں اسے توصیف کے ساتھ بھیجا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے آفس فون کر کے بات ختم کرنی چاہی تھی مگر میں ضد پر اترا ہوا تھا۔ آخر جب کچھ نہ بن پڑا تو وہ بول پڑی۔ آپ ہی بتائیں۔ میرا تو میکہ بھی نہیں ہے کہ میں کچھ دنوں کے لیے بچوں کو لے کر وہاں چلی جاؤں کہ آپ کا غصہ کچھ کم ہو سکے۔اور جب وہ قدرت کے پیدا کردہ موقع پر واقعی جا تو رہی تھی تو میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ایک ضدی بچے کی طرح فاتحانہ انداز میں دروازے پر کھڑا بس اسے جاتے دیکھ رہا تھا اور دل میں عہد کر چکا تھا کہ میں اس کی غیر موجودگی میں مزے کروں گا لیکن اب مجھے واقعی مزہ آ گیا تھا۔

تمام بھائیوں اور چھوٹی بہن کو میری اس سے ان بن کا پتا چل گیا تھا اور وہ سب کے سب اس کے جاتے ہی میرے گھر آ کر بھی بس ادھر ادھر بیٹھ کر کھاپی کر چلے گئے تھے کیونکہ بات تو مجھ سے کرنے کی لیے کسی کی بھی ہمت نہ تھی۔ تیار ہو کر میں نے چھوٹی بہن کو فون کر دیا کہ وہ بچوں کو اسکول نہ بھیجے اور پھر سوچ بچار کر کے کہ ان سب کی بھی جان میں جان آجائے یہ بھی لکھ ڈالا کہ اب بچوں کی ماں ہی واپس آ کر اسکول بھیجے گی۔ یوں تو میری لاڈلی چھوٹی بہن شادی شدہ دو بچوں کی ماں تھی مگر اپنے بچوں کے لیے میں ایک تو کسی کو پریشان کرنا نہیں چاہتا تھا اور کہیں کہیں مجھے اپنی بہن پر بھروسا یا اعتبار کی کمی بھی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اس کا اپنے بچوں کے لیے بہت حساس ہونا پسند تھا اور میں خود بھی اس کے رنگ میں رنگ چکا تھا۔ یہ میرے بچے ہیں اور ہماری ذمہ داری ہیں۔ میں آفس کی تیاری کر کے نکلا مگر میرا رخ ہسپتال کی طرف ہو گیا۔ بہت سمجھایا۔ خود کو بہت منایا ایسی کمزوری ساری عمر کا روگ بن جایا کرتی ہے اب ہمّت کر کے کہ کے ایک فیصلہ کیا ہی۔ ضد ہے تو نبھاؤں مگرنا بھئی دل نے تو سینے میں اس قدر ادھم مچا دیا کہ مردانگی، ضد، خود سری سب دھری کی دھری رہ گئی۔ ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ کے باہر توصیف ٹہلتا نظر آ گیا اور میرا غصہ سے پارا ایک بار پھر اوپر پہنچ گیا۔ ہاں بھئی کیا پروگریس ہے؟ کب تک رہو گے یہاں؟ میں نے تنک کر پوچھا توصیف جو مجھے دیکھ کر ایک کر میرے گلے لگا تھا۔ جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹ گیا۔ ابے تو تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے کب سے بھابی کو میں نے روک رکھا ہو؟ توصیف ہمیشہ سے میرے دل کی بات کو فوراً سمجھ جایا کرتا تھا اور اس کی عادت تھی بغیر لیپا پوتی کے میرے منہ پر جواب مار دیتا تھا ۔ لہذا میں پہلے گڑ بڑایا۔ پھر شیر ہونے میں عافیت سمجھی ہمیشہ سے احسان فراموش ہے تو …. ماننا تو تجھے ہے نہیں۔ مجھ سے جواب نہ بن پڑا تو تلملا گیا اور توصیف کو چھوڑ کر ایمرجنسی میں جانے کے لیے بڑھا۔ ا ہے ٹھہر جا میرے تیر کمان کمرے میں شفٹ کر دیا ہے۔ تجھے بتا نہیں سکے تھے۔ اسی لیے میں یہاں کھڑا تھا۔ ایسی شاندار جوڑی ہے تیری ، سبحان اللہ کہ مجھے بھابی نے صبح پانچ بجے سے ہی کہہ دیا تھا کہ تو آتا ہو گا اب چل جنرل وارڈ میں نے پلٹ کر توصیف کو گھورا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔

ابے چل ناں مجھ سے بھی چھپائے گا کیا ۔ بیٹا۔ امی نے تو رات میں ہی کہہ دیا تھا کہ ناحق بھائی کو تکلیف دی ، امی کے ساتھ رات میں رکنے کے لیے میری دونوں بہنیں بھی تو ہیں پر تو اس وقت اس قدر بضد تھا کہ ہم بھابی کو لے آئے ۔ اب بتا ، ہمارا کیا قصور؟ بات یہ ہے کہ بچے پریشان ہیں، آج ان کی اسکول کی چھٹی بھی ہو گئی اس لیے بس مجبوری ہے یار سمجھا کرو۔ میں نے بات بنائی مگر وہ بھی میرے بچپن کا دوست تھا۔ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں جناب ومکرمی مگر کبھی کبھی سچ بولنے میں حرج نہیں چلو ہم سے نہ سہی، اپنے آپ سے تو سچ بولو اور لگے ہاتھوں کبھی کبھار اپنی بیوی سے اظہار بھی کر دیا کرو۔ آخر بیوی ہے یار ! وہ بھی اکلوتی دیکھو ناں تم نے زبردستی بھابی مطلب اپنی بیوی کو میری امی کے ہسپتال جانے کا سن کر روانہ کر دیا اور حکم بھی صادر کر دیا کہ جب تک امی ٹھیک ہو کر گھر نہیں چلی جاتیں وہ امی کے ساتھ ہی رہیں۔ ناراضی ناچاقی تو ہوتی رہتی ہے میاں بیوی میں مگر ایسے کوئی تھوڑی ناں کرتا ہے۔ خیر اچھا ہوا کہ تمہارا موڈ رات بھر میں ہی ٹھیک ہو گیا ، اب بھابی کو لے کر جاؤ اگر تم نہیں بھی آتے میں خود چھوڑ آتا ان کو …. اور آج کا دن صرف ان کے ساتھ گزارو۔ بچے چھوٹی بہن کے پاس رہنے دو۔ رات میں جا کرلے آنا، سمجھے اتنی اچھی سمجھ دار بھابی ہیں ہماری۔ قدر کرو میرے بھائی اور امی الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہیں ، ہو سکتا ہے کل تک ان کو ڈسچارج بھی کر دیں۔ تمہارا اور بھابی کا شکریہ کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ بار بار میرے ذہین میں اماں بی مرحوم کی ایک ہی بات بازگشت کر رہی تھی۔ مرد محبت نہیں کرتا عادی ہوتا ہے۔ میں نے سر جھٹک کر اماں بی مرحوم کی بات کا جواب دیا۔ نہیں اماں بی ! مجھے اس کی عادت نہیں، اس سے محبت ہو گئی ہے۔ گو توصیف میرے بچپن کا دوست تھا مگر آج سے پہلے وہ مجھے اتنا پیارا کبھی نہیں لگا تھا۔

 




Post a Comment

0 Comments